sher sahb chaly shikar ko شیر صاحب اور خرگوش کرنے چلے شکار

جنگل کے بادشاہ شیر صاحب جانتے تھے کہ خرگوش بے حد چالاک ہے،وہ کس کس طرح دوسروں کو دھوکہ اور فریب دے کر بے وقوف بناتا ہے۔۔!شیر صاحب جتنا اس کے بارے میں سوچتے تھے اتنا ہی خرگوش کی چالاکی کے قائل ہوتے جاتے تھے۔

            ایک بار شیر صاحب کے من میں کیا آئی کہ انہوں نے سوچا کیوں نہ خرگوش سے دوستی کر لوں۔۔۔۔۔یہ میرے لئے بہتر رہے گا۔یہ سوچ کر وہ خرگوش کے گھر پہنچ گئے اور دروازہ بجا کرزور سے بولے؛

            ’’ میاں خرگوش! کیا تم میرے ساتھ شکار پر چلو گے۔۔۔۔؟‘‘

            ’’ نہیں جناب۔۔۔۔! مجھے معلوم ہے کہ آپ بیچارے خرگوش کو ہی شکار کر ڈالو گے۔‘‘ خرگوش اندر سے ہی چلایا

            ’’میاں خرگوش !تم اتنے چالاک ہو کہ میں چاہوں بھی تو یہ نہیں کر سکتا۔‘‘ شیر صاحب باہر سے بولے؛’’ میں قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں تمہیں دوست بنانا چاہتا ہوں۔بس اب باہر آجاؤاور میرے ساتھ شکار پر چلو۔‘‘

                        خرگوش نے سنا کہ شیر صاحب نے قسم کھائی ہے کہ اسکو کچھ نہیں کہیں گے اور وہ جانتا تھا کہ شیر صاحب جھوٹ نہیں بولتے نا ہی کبھی وعدہ توڑتے ہیں لہٰذاوہ اپنے گھر سے باہر آگیا اور انکی ساتھ شکار کیلئے چل پڑا۔

            دونوں کے پاس بندوقیں تھیں اور وہ جنگل کے د وسرے سرے پر شکار کی تلاش میں جا رہے تھے۔کافی دیر چلنے کے بعد انہیں بہت سے آبی پرندے اُڑتے ہوئے نظر آئے کیونکہ قریب ہی ایک چشمہ بھی تھا۔اب دونوں نے بندوقیں تان لیں اور فائر کیا ۔۔۔۔۔ٹھاہ ٹھاہ کی دو آوازیں آئیں،شیر صاحب کا نشانہ خطا گیا کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ انکا نشانہ اچھا نہیں۔خرگو ش کی گولی ٹھیک نشانے پر لگی کیونکہ اسکا نشانہ کبھی خطا نہیںجاتاتھا اور نہ ہی کبھی کوئی اس کا وار خالی گیا تھا۔

            خرگوش کا شکار کیا ہوا پرندہ جیسے ہی زمین پر آیا شیر صاحب چلائے؛’’یہ میرا ہے ،یہ میرا ہے،اسے میں نے مارا ہے۔۔۔!‘‘

خرگوش یہ سن کر چپ کر گیا کیونکہ وہ ا تنے بڑے شیر کے سامنے زبان کھولنے کی یا بحث کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا،لیکن پھر بھی اس نے سوچ لیا کہ وہ اپنا شکار چھوڑے گا نہیں۔

وہ کئی گھنٹے تک شکار کھیلتے رہے اور ہر بار یہی ہوتا کہ پرندہ خرگوش کی گولی سے مرتا اور قبضہ شیر صاحب جما لیتے تھے کہ یہ میرا شکار ہے۔تمام دن گزر گیا ،شیر صاحب نے شکار سے اپنا تھیلا بھر لیا۔جب رات ہوئی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ بہت دور آچکے ہیں لہٰذا اب واپس جانے کی بجائے رات یہیں گزاری جائے۔انہوں نے وہیں چشمے کے کنارے پڑاؤ ڈال لیا، آگ جلائی اور رات کا کھانا تیار کرنے لگے ۔شیر صاحب نے اپنے تھیلے میں سے چار پانچ پرندے نکال کر آگ پر بھونے اور خوب مزے لے لے کر کھائے جب پیٹ بھر گیا تو بچا کچھا کھانا خرگوش کو دے دیا۔کھانا کھا کر وہ دونوں لیٹ گئے اور ایک دوسرے کو قصے سنانے لگے۔

            ’’ مجھے تو آج پتا چلا کہ آپ کتنے عظیم شکاری ہیں شیر صاحب ۔۔۔!‘‘ خر گوش نے شیر صاحب کو مسکا لگایا اور شیر ساحب کا سینہ فخر سے  اورپھول گیا۔

                        تھوڑی ہی دیر میں شیر صاحب کو نیند آنے لگی۔جب خرگوش نے انہیں اونگھتے دیکھا تو بولا،

            ’’جناب میں تو بہت خوفناک خراٹے لیتا ہوں،مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپکی نیند خراب نہ ہو۔۔۔۔!‘‘

            ’’میں تو خود بہت خراٹے باز ہوں۔۔۔۔۔۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا،البتہ تمہاری نیند متاثر نہ ہو۔۔۔۔!‘‘شیر صاحب نے بمشکل اپنی نیند سے بھری ہوئی آنکھیں کھول کر کہا۔

            ’’اور اگر آپ مجھے یہ بھی بتا دیں کہ آپ کس قسم کے خراٹے لیتے ہیں تو مجھے خوشی ہوگی۔۔۔۔!‘‘خرگوش پھر بولا

                        شیر صاحب اُٹھ کر بیٹھ گئے اور زور سے سانس اندر کھینچ کر سینہ پُھلا کر ’’ خڑ ڑ ڑ ڑ۔۔۔۔۔۔خڑ ڑ ڑ ڑ ‘‘کر کے سانس باہر نکال کر دکھایا کہ وہ خراٹے کیسے لیتے ہیں۔

            ’’بہت بہت شکریہ جناب! مجھے اُمید ہے کہ آپ جب گہری نیند میں ہونگے تو بالکل اسی طرح خراٹے لیں گے۔‘‘ خرگوش نہایت عاجزی سے بولا؛’’ میں نے ہمیشہ سنا تھا کہ آپ بہت عظیم انسان ہیں۔۔۔اور آج دیکھ بھی لیا۔۔۔!‘‘شیر صاحب فخر سے مسکرائے اور پھر انکی آنکھیں نیند سے بند ہونے لگیں، انہوں نے لیٹ کر ٹانگیں پھیلا لیں اور جلدہی خوفناک خراٹے لینے لگے۔

            خرگوش بھی کروٹ لے کر لیٹ گیالیکن اسکی بڑی بڑی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں،وہ شیر صاحب کی نیند گہری ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔اور جب انکے خراٹے پورے عروج پر پہنچ گئے تو وہ اٹھا اور وہاں گیا جہاں آگ جلا کر کھانا تیار کیا گیا تھا،وہاں سے تھوڑی سی راکھ اٹھا کر اپنے اوپرچھڑک لی اور گرم کوئلے اٹھا کر شیر صاحب پر پھینک دیئے۔شیر صاحب چھلانگ لگا کر اٹھے اور چلانے لگے؛

            ’’ کون ہے۔۔۔؟ یہ کس کی حرکت ہے۔۔۔؟خرگوش جو دوڑ کر اپنی جگہ پر لیٹ چکا تھا وہ بھی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلانے لگا؛

            ’’اوئی ۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔آئے۔۔۔۔!‘‘

                        شیرصاحب نے دیکھا کہ خرگوش کا جسم بھی راکھ میں اٹا ہوا ہے،وہ سوچنے لگے کہ یہ کون ہوسکتا ہے کہ جس نے ہم دونوں پر گرم کوئلے پھینک کر جلانے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔! انہوں نے ہر طرف نظر دوڑائی مگر کہیں کوئی نظر نہ آیا۔

            وہ پھر لیٹ گئے اور لیٹتے ہی انکو نیند آگئی اور وہ پھر زور زور سے خراٹے لینے لگے۔خرگوش نے وہی حرکت پھر دوہرائی۔۔۔۔۔۔اپنے جسم پر ٹھنڈی راکھ چھڑکی اور گرم کوئلے شیر صاحب پر اچھال دیئے اور اپنی جگہ پر واپس آکر لیٹ گیا۔شیر صاحب پھر ہڑ بڑاکر اٹھ بیٹھے اور چلانے لگے؛’’ کون ہے۔۔۔؟ دوبارہ یہ حرکت کس نے کی۔۔۔؟‘‘

            ’’شیرصاحب ۔۔۔۔۔آپکو شرم آنی چاہیئے،آپ مجھے جلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔؟‘‘خرگوش زمین پر پیر مارمار کررونے لگا

            ’’ میں نے کبھی کوئی گھٹیا حرکت نہیں کی۔۔۔۔!‘‘ شیر صاحب غررائے

            ’’ یہ پرانے چیتھڑے جلنے کی بو کہاں سے آرہی ہے۔۔۔؟‘‘ خرگوش اپنی ناک اونچی کر کے زور زور سے سونگھنے لگا

            ’’ پرانے چیتھڑے نہیں ۔۔۔۔۔یہ میرے بال جل رہے ہیں!‘‘ شیر صاحب قدرے ناراض ہو کر بولے،پھر ادھر اُدھر تلاش کر نے لگے کہ یہ کون ہو سکتا ہے۔خرگوش چشمے کی طرف اِشارہ کر کے اُچھلنے لگا؛

            ’’اُدھر دیکھیں ۔۔۔۔۔وہاں کوئی ہے۔۔۔۔۔۔کچھ اُٹھا کر بھاگا جا رہا ہے ،جلدی کریں اسکا پیچھا کریں۔۔۔!‘‘ اور شیر صاحب اُدھر کی طرف دوڑے۔

            اِدھر خرگوش نے اپنے شکار کئے ہوئے پرندوں سے بھرا شیر صاحب کا تھیلا اُٹھا کر کندھے پر ڈالا اور دوڑ لگا دی۔۔۔۔وہ سیدھا اپنے گھر کی طرف دوڑا جا رہا تھا اور ساتھ ہی اسکو ہنسی بھی آ رہی تھی کہ جب شیر صاحب واپس آئیں گے تو انکا کیا حال ہوگا۔

                        شیر صا حب جب ہانپتے کانپتے واپس لوٹے تو نہ وہاں خرگوش تھا نہ ہی شکار والا تھیلا۔ وہ غصے سے کانپنے لگے ۔۔۔۔۔اپنے پیر زمین پر مار کر اتنے زور سے دھاڑے کہ دس میل تک گونج سنائی دی،جس نے بھی سنا خوف سے کانپ گیا۔۔۔۔۔۔سوائے خرگوش کے جو اپنی کامیابی پر مسکرا رہا تھا۔

                                                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Author: tasneem

Tasneem Jafri is a teacher by profession, she has been writing stories for kids in magazines and newspapers. She has written many books for kids and received multiple recognition and awards.