Gumshuda Bachi – گمشدہ بچی

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                    گمشدہ بچی

 اس نے کنویں میں ایک پتھر پھینکا ،پتھر گرنے سے پانی میں زور کا چھپاکا ہوا۔۔۔۔۔اور رابی ؔ کھِلکھلا کے ہنس پڑی۔ رابی ایک خوبصورت بچی تھی، اسکی بھوری آنکھیں تھیں اور کالے بال تھے۔۔۔ ۔۔۔۔بالکل کالے، جیسے سیاہ رات۔

    اس کو پانی میں پتھر پھینکنے میں بڑا مزہ آتا تھا ،جب پانی اُچھل کر اوپر آتا تھا تو وہ خوشی سے قہقہے لگاتی تھی۔ جب اسکا پھینکا ہوا وہ پتھر پانی کی تہہ میں بیٹھ گیا اور خاموشی چھا گئی تو اس نے اِدھر اُدھر ایک اور پتھر تلاش کیا لیکن اسکو وہاں اور کوئی پتھر نظر نہ آیا تو وہ مایوس ہو کر پیچھے ہٹ گئی اور اپنی جھونپڑی کی طرف لوٹ آئی۔

                        قاہرہ کے جنوب مغربی بنجر صحرا کے اس چھوٹے سے گاؤں کی بہت سی چھوٹی سی جھونپڑیوں میں سے ایک رابی کی بھی تھی،  اس نے دیکھا کہ جھونپڑی کی دیواروں پر پڑے بکری کی کھال کے پردے اُوپر اُٹھا دیئے گئے تھے تاکہ ہوا اندر آسکے، کیونکہ وہ گرمی کا موسم تھا اور مصر کے صحرا میں گرمی بہت شدید اور نا قابلِ برداشت ہوتی ہے۔ ہوا کا چلنا ان کے لئے کسی نایاب تحفے سے کم نہیں ہوتا ، جب کبھی ہوا چلتی ہے تو وہ اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہیں،اسی لئے آج رابی کی امّی نے بھی اپنی جھونپڑی کے پردے اُٹھا رکھے تھے۔

                        اس دور دراز گاؤں میں کوئی مسافر نہ آتا تھا، سوئے اس کے کہ کبھی کبھی اُونٹوں کا کوئی کارواں ان کے کنویں یا جھیل سے اپنے اُونٹوں کو پانی پلانے کے رُک جاتا تھا۔ اس بنجر صحراء میں کوئی درخت یا سبزہ بھی نہ تھا، بس کہیں کہیں جھاڑیاں اور کیکر کے درخت تھے جو جھیل کے کنارے اُگ آئے تھے۔وہ جھیل بھی بارش کا پانی جمع ہونے سے بن جاتی تھی ۔ کبھی کبھار بارش کا ہو جانا بھی ان کے لئے بہت بڑی نعمت تھا۔

 گاؤں کے اِرد گِرد مٹی کی پگڈنڈیاں بنی ہوئی تھیں ، یعنی ریت میں وہ چھوٹے چھوٹے    راستے جو لوگوں کے مسلسل چلنے سے سخت ہوجاتے ہیں ۔ رابی کو ان پکڈنڈیوں پر چلنا اور اپنے دوستوں کی ساتھ یہاں آکر کھیلنا بھی بہت اچھا لگاتا تھا۔ ان میں سے راستہ کنویں کی جانب جاتا تھا، کچھ راستے دوسری ونپڑیوں تک جاتے تھے، کچھ راستوں سے ان کی بھیڑ بکریاں جھیل سے پانی پینے جاتی تھیں جہاں وہ کچھ جھاڑیاں بھی کھا لیتی تھیں۔ اور کچھ راستے کسی نا معلوم جگہ تک جاتے تھے، جن کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہ تھا۔۔۔۔۔۔!

             ایک دن رابی اپنے دوستوں یاسمین اور اس کے بھائی کریم کی ساتھ گاؤں کے باہر ایک پکڈنڈی پر کھیل رہی تھی۔ اچانک رابی کی نظر پکڈنڈی سے ہٹ کر ریتیلے راستے پر پڑی، وہاں کوئی چیز تھی، رابی کھیلنا چھوڑ کر اس دوڑی، اس نے دیکھا وہ ایک خرگوش تھا، وہ نرم نرم بھورے بالوں والا خر گوش بہت پیاراتھا،مگر رابی کو لگا کہ وہ بھوکا ہے۔ خرگوش رابی کو دیکھ کربھاگا اور رابی اس کے پیچھے بھاگی۔ یاسمین اور کریم نے اس کو روکا کہ وہ دور نہ جائے کیونکہ ان کی ماؤں نے منع کیا ہوا تھا کہ پکڈنڈیوں سے نہ ہٹیں کیونکہ اس کے علاوہ راستے ہمارے دیکھے بھالے نہیں ہیں ،وہاں جا کر گم ہوجاتے ہیں ۔ ریت میں انسان کے پیروں کے نشان بھی گم ہوجاتے ہیں ۔ وہاں خونخوار جانور بھی ہوتے ہیں انسان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور کھا بھی سکتے ہیں۔

            رابی سب جانتی تھی پھر بھی وہ خرگوش کی مدد کرنا چاہتی تھی اس لئے اپنے دوستوں کی بات کو نظر انداز کر کے اس کے پیچھے بھاگتی  گئی۔ یاسمین اور کریم اس کو آوازیں دیتے رہے لیکن اس نے ان کی ایک نہ سنی۔ وہ اس ریتیلے علاقے سے نکل کر پہاڑی علاقے میں پہنچ گئے، خرگوش پہاڑ پر چڑھ گیا۔۔۔۔۔رابی بھی اس کے پیچھے پہاڑ پر چڑھ گئی۔ پہاڑ کے دوسری جانب ایک وادی تھی، خرگوش وادی میں پہنچ گیا، رابی بھی اسکے پیچھے وادی میں پہنچ گئی۔خرگوش رابی سے بچنے کے لئے ایک درخت پہ چڑھ گیا، رابی بھی درخت پر چڑھنے لگی تو خرگوش درخت تے چھلانگ لگا کر پھر وادی میں دوڑنے لگا ۔ وادی بہت بڑی تھی جہاں جگہ جگہ خاردار جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں ، خرگوش اچانک ان خاردار جھاڑیوں میں گھسا اور غائب ہوگیا۔وہ رابی کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔

                        پہلے تو رابی اس کے جھاڑیوں سے نکلنے کا انتظار کرتی رہی، پھر تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی اسے آراام کی ضرورت تھی۔ اس نے درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے اِرد گِرد دیکھا تو وہ تمام جگہ اسے بہت غیر مانوس دکھائی دی، ہر چیز نئی تھی جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔جس درخت کے نیچے رابی بیٹھی تھی اس کے اوپر شہد کی مکھیوں کا ایک بڑا چھتا تھا جو رابی نے نہیں دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر میںہی بہت سی شہد کی مکھیاں رابی کے گر د جمع ہونے لگیں، رابی نے ہاتھ ہلا ہلا کر ان کو بھگانے کی کوشش کی لیکن وہ جتنا بھگاتی تھی مکھیاں اتنی ہی زیادہ اس کے قریب آتی جاتی تھیں،  تب رابی گھبرا گئی کر وہاں سے چھلانگ لگائی اور اُٹھ کر بھاگی۔ مکھیاں بھی اس کے پیچھے بھاگیں ، وہ جتنا تیز بھاگ سکتی تھی اُتنی تیز بھاگی۔ وہاں رابی کو کچھ گھنی جھاڑیاں نظر آئیں وہ ان جھاڑیوں میں چھپ گئی، اس طرح وہ مکھیوں سے بچ گئی۔

    کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا کہ وہ بہت ہی دور نکل آئی ہے اور اسے اپنے گھر کا راستہ بھی نہیں معلوم۔یہاں کے کسی راستے سے وہ واقف نہیں تھی۔ پھر اسے یاسمین اور کریم یاد آئے۔۔۔۔۔وہ اس کو کتنا روکتے رہے تھے لیکن اس نے ان کی ایک نہ سنی تھی ۔ اب وہ پچھتا رہی تھی۔لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔

            رابی ایک پتھر پر بیٹھ پر رونے لگی۔اچانک اسنے ایک آواز سنی۔۔۔۔۔۔ایسی آواز جیسے کسی بھرے ہوئے غبارے سے ایک دم ہوا نکل جائے۔۔۔۔ہس ہس ہس ، رابی نے سر اُٹھا کر دیکھا تو اس کے سامنے ایک بڑا  ’کوبرا‘  اپنا پھن اُٹھائے کھڑا تھا۔۔۔۔اور اپنی زبان لہرا رہا تھا۔

رابی اُچھل کر پتھر پر کھڑی ہوگئی اور زیادہ زور زور سے چِلانے لگی۔ اس کے چِلانے سے کوبرا ریت میں مُنہ دے کر کہیں غائب ہوگیا، شاید اپنے بِل میں گھُس گیا۔

            رابی کو جب اطمینان ہوگیا کہ وہ کوبرا سانپ وہاں سے چلا گیا ہے تو اس نے پتھر سے نیچے چھلانگ لگا ئی اور دوڑ لگا دی  اور واپس وادی میں آگئی ۔ اس وادی سے کبھی کوئی برساتی نالا گزرتا ہوگا، اس کے نشان آج بھی ایسے قائم تھے جیسے کچھ دن پہلے ہی یہاں سے پانی کا ریلا گزرا ہو۔ رابی اُنہیں نشانات والے راستوں پر چلتی جا رہی تھی کہ دور اسکی نظر کسی حرکت کرتی ہوہی چیز پر پڑی۔۔۔۔۔۔اس کا دل بڑے زور سے اُچھلا او ر وہ خوشی سے اُس جانب دوڑ ی، اُسے لگا کہ یہ وہی بھورا خرگوش ہے۔اُس نے سوچا کہ اگر میں اس کے پیچھے جاؤں تو شاید واپسی کا راستہ مل جائے۔

            وہاں پہنچ کر جب رابی نے اس جانور کو دیکھا تو وہ ایک لومڑی تھی، سرخی مائل بھوری صحرائی لومڑی جس کی بڑی سی جھاڑی نما دُم تھی،   وہ رابی کو دیکھ کر ایک جھاڑی میں چھپ گئی۔

             رابی کو بہت مایوسی ہوئی اور وہ سر جھکا کر پھر اسی راستے پر چل پڑی جو وادی میں دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ رابی اس راستے پر بھاگنے لگی تاکہ کسی جانے پہچانے راستے کا تو پتا چلے،اسے اس وادی میں بھٹکتے کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔

             اب وہ تھکن محسوس کر رہی تھی، اسے بھوک بھی لگ رہی تھی اور ڈر بھی، مگر وہ اکیلی کیا کر سکتی تھی۔۔۔۔۔نا امی ابو کو آواز دے سکتی تھی اور نا ہی دوستوں کو، اس نے کسی کا بھی کہا نہیں مانا تھا اور بغیر سوچے سمجھے اس خرگوش کے پیچھے چل پڑی تھی ۔اب کیا ہو سکتا تھا۔

             اب تو سورج بھی ڈوبنے چلا تھا، آسمان پر سرخ اور نارنجی رنگ پھیلنے لگے تھے۔وہ تھک کو وہیں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔پھر اپنا بازو سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گئی، اور جلد ہی اس کو نیند آگئی۔

            تھوڑی دیر بعد جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اسی خرگوش کو اپنے پاس بیٹھا ہوا پایا جس کا وہ پیچھا کرتی ہوئی یہاں تک پہنچی تھی۔ وہ اپنی چھوٹی سی ناک رابی کے گال پر رگڑ رہا تھا۔ر ابی آہستہ آہستہ اُٹھ کر بیٹھ گئی، اب خرگوش اس سے ڈر کر بھاگا نہیں، رابی نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا ، وہ پھر بھی کھڑا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ رابی اس کے ساتھ چلے، پھر وہ کھڑی ہوئی اور خرگوش کے پیچھے چلنے لگی۔

            وہ وادی میں چلتے جا رہے تھے ، وہ جگہ آئی جہاں رابی کو لومڑی ملی تھی، پھر وہ جگہ آئی جہاں رابی کو کوبرا ملا تھا اور شہد کی مکھیاں ۔خرگوش چھلانگے لگاتا ہوا دوڑ رہا تھا وہ صحیح ر استے کی طرف رابی کی راہنمائی کر رہا تھا اور رابی اس کے پیچھے پیچھے تھی۔ اب وہ پہاڑی پر پہنچ گئے تھے ،  پھر پہاڑی پر چڑھ کر دوسری جانب اُترے، وہاں سے وہ ریتیلا علاقہ شروع ہوگیا تھا جہاں رابی نے سب سے پہلے خرگوش کو دیکھا تھا،وہاں پہنچ کر خرگوش اچانک رُک گیا۔  رابی نے ایک آواز سنی۔۔۔۔۔۔اس کے ابو اس کو پکار رہے تھے، وہ اس کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔اس نے بھی اپنے ابو کو پکارا   ’’ میں یہاں ہوں ابو۔۔۔۔۔۔ میں یہاں ہوں!‘‘ وہ بھی زور سے چِلائی

            جلد ہی اس کے ابو نے اس کو دیکھ لیا۔وہ بھاگے آ ئے اور رابی کو گود میں اُٹھا لیا اور بولے؛

            ’’ تم کہاں چلی گئیں تھیں بیٹا۔۔۔۔؟جانتی ہو کہ ہم کتنے پریشان تھے، ہمیں یاسمین اور کریم نے بتایا کہ تم صحرا میں کہیں بھٹک گئی ہو اور  راستہ بھول گئی ہو،تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔۔۔!‘‘

            ’’ مجھے معاف کردیں ابو۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں کہ میں نے آ پ لوگوں کی نا فرمانی تھی اسی لئے مجھے سزا ملی اور میں راستہ بھول گئی ، میں وہاں بہت ڈری تھی۔میں آئندہ ایسا نہیں کرونگی۔‘‘

            رابی نے اپنے ابو سے معافی مانگی اور پیچھے مُڑ کر خرگوش کو دیکھا، وہ واپس پہاڑی پر چڑھ رہا تھا۔ رابی اس کو جاتا دیکھ کر مسکرائی اور اپنے ابو کی ساتھ گھر کی طرف چل پڑی۔

ٍ

Author: tasneem

Tasneem Jafri is a teacher by profession, she has been writing stories for kids in magazines and newspapers. She has written many books for kids and received multiple recognition and awards.