خود غرض دیو

ہر روز دوپہر کو بچے سکول سے واپسی پر اس باغ میں کھیلنے آتے تھے، باغ کے مالک کا قد بہت لمبا تھاجس کی وجہ سے سب لوگ اس کو دیو کہتے تھے ،جو کہیں گیا ہوا تھا۔باغ بہت ہی خوبصورت تھا، سر سبز گھاس کا بہت بڑا میدان تھا جس میں جگہ جگہ کھلے پھول بالکل ستاروں کی طرح جڑے تھے،بارہ تو آڑو کے درخت تھے جن میں بہار کے موسم میں خوبصورت گلابی اور دودھیا رنگ کے پھول کھلتے تھے اور خزاں میں وہ درخت رس بھرے پھلوں سے بھر جاتے تھے۔ ان درختوں پر بے شمار پرندے رہتے تھے جو ہر وقت اتنے میٹھے میٹھے گیت گاتے تھے کہ بچے اپنا کھیل چھوڑ کر ان کے گیت سننے لگتے تھے۔ غرضیکہ بچے وہاں وقت گزار کر بے حد خوش ہوتے تھے۔

                پھر ایک دن وہ دیو واپس آگیاجو اپنے دوست سے ملنے کارنش آگر گیا ہوا تھاجہاں سے وہ پورے سات سال بعد آیا تھا۔دوست نے بہت روکا تھا لیکن اب وہ اپنے گھر کے لئے اداس ہو رہا تھا اور جلد از جلد اپنے قلعے میں واپس جانا چاہتا تھا۔جب وہ اپنے گھر پہنچا اور باغ کی خبر لی تو دیکھا کہ وہاں بچے کھیل رہے تھے ۔

                ’’تم بچے لوگ یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟‘‘دیو غصّے سے چلایاتو سب بچے ڈر کر بھاگ گئے۔

                ’’ سب جانتے ہیں کہ یہ میرا باغ ہے۔۔۔۔۔اور میرے علاوہ یہاں کوئی نہیں کھیل سکتا۔‘‘ دیو بڑ بڑایا

                پھراس نے باغ کے گرد ایک اونچی دیوار بنوا دی تاکہ کوئی اندر نہ آ سکے،اور ایک بورڈ لگا دیا جس پر لکھا تھا ،’’بغیر اجاز ت باغ میں آنے والوں کو سزا دی جائے گی۔‘‘وہ بہت خود غرض دیو تھا ۔

                                 اب بے چارے بچوں کے کھیلنے کے لئے کوئی جگہ نہیں رہی تھی۔وہ سڑک پر کھیلنے کی کوشش کرتے لیکن سڑک دھول مٹی سے اٹی تھی جہاں پتھر بھی تھے جو ان کے پیروں میں چبھتے تھے اس لئے ان کو وہ جگہ کھیلنے کے لئے بالکل پسند نہیں تھی۔

                ’’وہ باغ کتنا اچھا تھا نا۔۔۔۔اورہم وہاں کتنے خوش تھے۔۔!‘‘بچے ایک دوسرے سے کہتے

                                پھر سخت سردی کے د ن ختم ہوئے اور بہار آگئی،پورا علاقہ خوبصورت پھولوں اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے بھر گیا۔۔۔بس صرف خود غرض دیو کا باغ تھا جہاں بہار نہیں آئی تھی بلکہ سخت سردی برقرار تھی،پرندے بھی اب وہاں جانا اور گانا پسند نہیں کرتے تھے اور درختوں نے پھل دینا چھوڑ دیئے تھے۔۔۔۔کیونکہ اب وہاں بچے نہیں رہے تھے۔ایک پودے سے خوبصورت پھول نے کھل کر سر اٹھایا تو اس کی نظر بورڈ پر پڑی جس پر بچوں کو باغ میں آنے سے منع کیا گیا تھا، پھول کو بے حد دکھ ہوا، اس نے سر جھکا لیا اور واپس اپنا منہ پودے میں چھپا لیا۔ا ب باغ میں صرف سردی ،برف اور دھند کا راج تھا۔

                ’’اب یہاں کبھی نہیں آئے گی۔۔۔۔بہار اس باغ سے روٹھ گئی ہے۔۔!‘‘سردی نے چلا کر کہا اور پورے گھاس کے میدان پر برف کی سفید چادر پھیلا دی،دھند اورکہرا درختوں سے لپٹ گئے ،اور انہوں نے شمالی سرد ہوا کو بھی اپنے پاس رہنے کے لئے بلا لیا۔’’اب یہاں صرف اور صرف میرا راج ہوگا،میںیہاں سارا سال رہ سکوں گی۔۔!‘‘ سردی غرور سے بولی

                سبزہ غائب ہوگیا ،ہر طرف سفیدی دکھائی دینے لگی ،گو کہ پورے علاقے میں بہا ر اپنے خوبصور رنگ دکھا رہی تھی مگر خود غرض دیو کا باغ اس سے محروم ہو چکا تھا۔وہ خود سارا دن گرم اونی کپڑوں میں لپٹا رہتا اور آتش جلا کر بیٹھا رہتا تھا۔

                ’’ہمیں یالہ باری کو بھی دعوت دینی چاہیئے اس باغ میں۔‘‘ایک دن سردی نے کہااور پھر خوب یالہ باری ہوئی،موٹے موٹے اولوں سے باغ بھر گیا،گھاس کا میدان اور زیادہ سفیدہوگیا۔اس کو روزانہ کئی گھنٹے تک اپنی چھت سے برف صاف کرنی پڑتی تھی ،وہ سردی سے ٹھٹھر جاتا تھا،اس کا پورا لباس سفید ہوجاتا اور اس کی سانس بھی سرد پڑ جاتی،پھر وہ بھاگ کر گھر میں گھس جاتا اور آتش دان کے آگے بیٹھ جاتا ۔

                ’’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس بار بہار اتنی لیٹ کیوں ہوگئی۔۔!‘‘ خود غرض دیو اپنی کھڑکی میں بیٹھا سوچ رہا تھا اورباغ کو دیکھ رہا تھا جہاں سفیدی چھائی ہوئی تھی،’’میرا خیال ہے کہ موسم میں تبدیلی آگئی ہے ۔‘‘لیکن بہار کو نہ آنا تھا نہ آئی اور خود غرض دیو سوچتا ہی رہ گیا،نہ ہی گرمی آئی ۔خزاں میں ہر جگہ درختوں پر سنہری رس بھرے پھل لگے،لیکن خود غرض دیو کے باغ میں کوئی پھل نہیں لگا سوائے سردی،برف ، کہرا، دھند،شمالی سرد ہوا اور اولوں کے کچھ بھی نہیںتھا وہاں۔

                ایک صبح کو ،ابھی خودغرض دیو اپنے بستر پر ہی تھا جب اس نے بہت پیاری موسیقی کی دھن سُنی،وہ دھن اتنی مسحور کن تھی کہ دیو نے سوچا یہ ضرور بادشاہ کے شاہی بینڈ کی دھن ہوگی۔لیکن وہ صرف ایک چھوٹا پرندہ تھا جو اس کی کھڑکی میں بیٹھا گا رہا تھا،مگر کیا تھا کہ اس نے بہت عرصے بعد اپنے باغ میں کسی پرندے کا گیت سنا تھا اس لئے وہ سمجھ ہی نہ پایا کہ یہ کس کی آواز ہے جو اسے دنیا کی خوبصورت ترین موسیقی محسوس ہوئی تھی۔۔!تب اولوں نے اس کے سر پر برسنا بند کردیا،شمالی سرد ہوا کی چنگھاڑ بھی رک گئی،سردی ختم ہوگئی اور کھڑکی سے بڑی ہی مسحور کن خوشبو اس کے کمرے میں گھستی چلی آئی۔۔!’’بالآخر بہار آہی گئی۔۔۔!‘‘اس نے سوچا، چھلانگ لگا کر اپنے بستر سے نکلا اور کھڑکی سے باہر جھانکا۔

                وہاں اس نے بہت حیرت انگیز منظر دیکھا،واقعی بہار آچکی تھی کیونکہ باغ میں چھوٹے بچے کھیل رہے تھے جو دیوار کے ایک سوراخ سے اندر آگئے تھے۔ سار باغ بچوں کی آوازوں سے گونج رہا تھا ،کوئی گھاس پر کھیل رہا تھا تو کوئی درختوں کی شاخوں سے جھول رہا تھا۔ درختوں نے اپنے بازو پھیلائے ہوئے تھے اور وہ بھی بچوں کو واپس پا کر خوشی سے جھوم رہے تھے،ہر درخت پر ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا،سر سبز پودے لہرا رہے تھے اور جگہ جگہ رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔پرندے ادھر اُدھر اُُڑتے پھر رہے تھے، وہ بھی خوشی سے چہچہا رہے تھے۔ غرضیکہ ہر کسی کی خوشی دیکھنے والی تھی۔بچوں کے آجانے سے بہار بھی لوٹ آئی تھی اور پورے باغ میں پھیلی ہوئی تھی سوائے ایک کونے کے ۔۔۔۔جہاں ابھی تک سردی کا راج تھا ۔۔وہ باغ کا ایک دور دراز حصّہ تھا اوروہاں ایک بچہ کھڑا ہوا تھا،وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اس کا ہاتھ درخت کی شاخوں تک نہیں پہنچ رہا تھا،وہ اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا اور رو رہا تھا کیونکہ وہ درخت کی شاخوں کے ساتھ نہیں جھول سکتا تھا۔بے چارہ درخت بھی بے بس کھڑا تھا اور ابھی تک دھندمیں گھرا ہوا تھا، برف سے ڈھکا ہوا تھا۔

                ’’ہاتھ اونچا کرو اور میری شوخ کو پکڑ لو پیارے بچے۔۔۔!‘‘درخت نے اپنی شاخ کو نیچے کیا لیکن بچہ بہت چھوٹا تھا اس کا ہاتھ درخت نہیں پہنچ پا رہا تھا ،وہ اور زور سے رونے لگا۔دیو نے جب یہ منظر دیکھا تو اس کا دل پگھل گیا

                ’’میں کتنا خود غرض تھا۔۔۔۔۔!‘‘دیو نے اپنے آپ سے کہا،’’اب مجھے پتہ چلا کہ بہار میرے باغ سے کیوں روٹھ گئی تھی۔میں اس ننھے لڑکے کو خود جا کر درخت کی شاخ پر بٹھا ؤں گا،میںباغ کی دیوار بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گرا دونگا تاکہ بچے یہاں روز کھیلنے لے لئے آیا کریں۔‘‘ دیو کھڑکی سے سب کچھ دیکھ رہا تھااوراس کو اپنے کئے پر بہت افسوس ہو رہا تھا

                وہ سیڑھیوں سے نیچے اترا، آہستہ سے دروازہ کھولااور باہر باغ میں آگیا۔بچے اسے دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے اور باہر بھاگ گئے،ان کے بھاگتے ہی باغ کی بہار بھی غائب ہوگئی اور سردی پھر سے لوٹ آئی۔ صرف چھوٹا لڑکا وہاں کھڑا رہا کیونکہ وہ رو رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں اتنے آنسو بھرے ہوئے تھے کہ وہ دیو کو آتے ہوئے دیکھ ہی نہیں پایا تھا۔دیو اس کے پاس آیا اورننھے لڑکے کو بڑے پیار سے اپنے بازوؤں میں اٹھایا اوردرخت پر بیٹھا دیا۔۔۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے درخت کی ساری برف غائب ہوگئی اور بہار پھوٹ پڑی،پرندے بھی وہاں  آ کر گیت گانے لگے۔ننھے لڑکے نے اپنے دونوں بازو دیو کی گردن میں ڈالے اوراس کے گال پر پیار کیا۔باقی بچوں نے جب دیکھا کہ دیو اب پہلے جیسا ظالم نہیں رہا تو وہ بھی بھاگ کر واپس آگئے۔۔۔اور ان کے آتے ہی بہار بھی لوٹ آئی اور پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے آئی۔

                پھر دیو نے ایک بڑا ساہتھوڑا اٹھایا اور اس دیوار کو بھی توڑ ڈالا جو اس نے باغ کے گرد بنوائی تھی۔بازار کی طرف آتے جاتے لوگوں نے دیکھا کہ دیو بچوں کے ساتھ باغ میں کھیل رہا ہے اور وہ باغ اس قدر خوبصورت تھا کہ انہوں نے ویسا باغ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔بچے سارا دن باغ میں کھیلتے رہے اور جب شام ہوئی تو وہ سب اس کو خدا حافظ کہنے کے لئے آئے۔

                ’’لیکن تمہارا وہ ننھا ساتھی کہاں ہے۔۔؟‘‘دیو نے ان سے پوچھا،’’وہ جس کو میں نے درخت پر بیٹھایا تھا۔۔؟‘‘دیو کو وہ بچہ بہت اچھا لگا تھا کیوں کہ اس نے دیو کو پیار کیا تھا۔

                ’’ہمیں نہیں معلوم۔۔۔۔شاید وہ پہلے چلا گیا!‘‘بچوں نے جواب دیا

                ’’اچھا! اس کو کہنا کل بھی ضرور آئے۔‘‘دیو نے کہا

                ’’ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں رہتا ہے،‘‘بچے بولے،’’نہ ہی ہم نے اسے پہلے کبھی یہاں دیکھا تھا۔‘‘دیو کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا

                                اس کے بعد ہر روز بچے اپنے سکول سے واپسی پرباغ میں آکر دیو کے ساتھ کھیلا کرتے تھے،لیکن وہ بچہ جو دیو کو سب سے اچھا لگا تھا پھر کبھی نظر نہیں آیا۔حالانکہ دیو اب سارے بچوں سے پیار کرتا تھا لیکن وہ جو اس کا سب سے پہلے دوست بنا تھا سب سے پیارا تھا

                ’’میں اس کو بہت چاہتا ہوں۔۔!‘‘ دیو اکثر خود سے کہتا تھا

         بہت سال گزر گئے ، دیو بوڑھاا ورکمزور ہوتا چلا گیا،اب وہ بچوں کے ساتھ کھیل بھی نہیں سکتا تھا۔وہ سارا دن اپنی بڑی آرام کرسی پر بیٹھا بچوں کو کھیلتے دیکھتا رہتا تھا ،اسے اپنے باغ پر فخر تھا۔

’’میرے باغ میں کس قدر خوبصورت پھول کھلیں ہیں۔۔۔۔لیکن بچے ان پھولوں سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔‘‘وہ خود سے کہتا

                وہ سردیوں کی ایک صبح تھی، جب دیو تیار ہو رہا تھا او ر کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا،اب اسے سردیاں بُری نہیں لگتی تھیںکیونکہ وہ جانتا تھا کہ ابھی بہار آرام کر رہی ہے اور پھول سو رہے ہیں۔اچانک اس نے باہر ایک حیرت انگیز چیز دیکھی ۔۔۔۔۔اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔۔۔۔اس نے آنکھوں کو مل کر پھر دیکھا،وہ یقینابہت شاندار منظر تھا۔۔!اس نے دیکھا کہ باغ کے ایک دور دراز کونے میں جو درخت ہے کھڑا ہے اس پر خوبصورت سفید پھول کھلے ہیں، حالانکہ ابھی بہار نہیں آئی تھی سردی تھی۔اس درخت کی تمام شاخیں سنہری تھیں اور ان پر روپہلی پھل لٹک رہے تھے،اور اس درخت کے نیچے وہی بچہ کھڑا تھا جس سے دیو پیار کرتا تھا،جو اسے پھر کبھی نظر نہیں آیا تھا۔دیو سیڑھیوں سے نیچے اترا ، جلدی جلدی گھاس کا میدان پار کیا اور دوڑتا ہوا اس درخت کی جانب گیا جہاں بچہ کھڑا تھا،اس کے دونوں ہاتھو ں اور پیروں میں کیلیں ٹھکی ہوئی تھیں ۔

                ’’تمہاری ساتھ یہ سب کس نے کیا ہے۔۔؟‘‘دیو غصّے اور دکھ سے چلایا ،’’مجھے بتاؤیہ جرات کس نے کی ہے۔۔ میں ابھی اپنی تلوار لے کر آتا ہوں اور اس کا سر قلم کرتا ہوں۔۔!‘‘

                ’’کسی نے نہیں!‘‘بچہ بولا،’’یہ تو اس محبت کے زخم ہیں جو تم مجھ سے کرتے ہو۔‘‘

                ’’تم کون ہو۔۔؟‘‘اچانک دیو پر ایک عجیب ساخوف طاری ہوگیا اور وہ گھٹنوں کے بل اس بچے کے سامنے گِر پڑا ۔بچہ دیو کو دیکھ کر مسکرایا اور بولا؛

                ’’ایک بار تم نے مجھے اپنے اس باغ میں کھیلنے دیا تھا۔۔۔۔آج تم میرے ساتھ میرے باغ میں چلو جو جنت میں ہے۔‘‘

                                اور پھر جب دوپہر کو سب بچے باغ میں کھیلنے کے لئے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ دیو زمین پر مردہ پڑا ہے۔۔۔۔اور درخت کے سفید پھولوں نے اس کے جسم کو ڈھکا ہوا ہے۔

                             ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                آسکر وائلڈ فیری ٹیل

                ترجمہ ؛تسنیم جعفری

Author: tasneem

Tasneem Jafri is a teacher by profession, she has been writing stories for kids in magazines and newspapers. She has written many books for kids and received multiple recognition and awards.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *